متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظبی میں نوجوان کو واٹس ایپ پر لڑکی کےلیے غیر اخلاقی زبان کا استعمال مہنگا پڑ گیا۔ ابوظبی کی عدالت نے نوجوان کو دو لاکھ ستر ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
الامارات الیوم کے مطابق ایک لڑکی نے نوجوان کے خلاف عدالت سے رجوع کرکے دعوی کیا کہ نوجوان نے اسے واٹس ایپ پر غیر اخلاقی زبان استعمال کی ہے۔ کیس معمولی جرائم کی سماعت کرنے والی عدالت بھیج دیا گیا۔ عدالت نے نوجوان کو ڈھائی لاکھ درہم جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جبکہ سول امور کو نمٹانے کے لیے معاملہ سول کورٹ بھیج دیا گیا۔ جہاں نوجوان سے مالی اور دیگر نقصانات کی تلافی کا مقدمہ زیر بحث آیا۔ عدالت نے سابقہ فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے نوجوان کو مقدمے کے اخراجات اور وکیل کے محنتانے سمیت جملہ اخراجات بھی ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
عدالت نے نوجوان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وہ مدعی خاتون کو اخلاقی نقصان پر 20 ہزار درہم بطور معاوضہ اور مقدمے کے اخراجات ادا کرے۔ عدالت نے مدعی خاتون کے دیگر مطالبات مسترد کردیے۔
مزید پڑھیں
-
بیوی سے تکرار کے بعد شوہر کو تین سال قید کی سزاNode ID: 463596
مدعی خاتون نے کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی اور اس کے اسباب کی تفصیلات اور اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر ایک یادداشت کی صورت میں پیش کیا۔ خاتون نے اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ عدالت نے قانون کے نفاذ میں غلطی کی ہے۔
اپیل کورٹ نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اول درجے کی عدالت نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ ہر لحاظ سے درست ہے۔ خاتون کو دشنام طرازی سے جتنا اخلاقی نقصان ہوا ہے بیس ہزار درہم اس کا معاوضہ مناسب ہے۔
اپیل کورٹ نے اپیل کے اخراجات مدعی خاتون کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا- اپیل کورٹ نے مزید کہا کہ خاتون کو جتنا اخلاقی نقصان دشنام طرازی سے ہوا تھا اس کا جو معاوضہ کورٹ نے طے کیا ہے وہ کافی ہے۔ اس میں مادی نقصان شامل نہیں کیونکہ مدعی خاتون اس حوالے سے اپنا دعوی ثابت نہیں کرسکی۔