سینیئر صحافی اور پاکستانی انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر طلعت اسلم پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں انتقال کرگئے ہیں۔
’دی نیوز‘ کے مطابق طلعت اسلم کی عمر 67 سال تھی۔ دہائیوں پر محیط صحافتی کیریئر میں انہوں نے متعدد انگریزی اخباروں اور میگزینوں میں بحیثیت صحافی اور ایڈیٹر کام کیا۔
ان کی موت پر متعدد پاکستانی صحافیوں اور سیاستدانوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا ایک ٹویٹ میں سینیئر صحافی کی موت پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلعت اسلم کے ساتھ انگریزی میگزین ’ہیرلڈ‘ میں کام کیا تھا اور وہ ان کے دوست تھے۔
Talat Aslam was not just an old-school journalist, with the highest integrity, he was a seasoned English-language editor. Our journey mingled at the Herald,where he was anchor even tho I was his boss.But he made us all his family,right to the end,wherever we were in life. https://t.co/ve1iXAxthK
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) May 25, 2022
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے طلعت اسلم کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
HRCP is deeply saddened to hear that senior journalist Talat Aslam @titojourno has passed away. He will be remembered for his wit and warmth, and for mentoring scores of young journalists. Our deepest condolences to his family, friends and @thenews_intl colleagues.
— Human Rights Commission of Pakistan (@HRCP87) May 25, 2022
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک تعزیتی بیان میں طلعت اسلم کی ’آزادی صحافت، اقلیتوں اور حقوق نسواں کی عوامی آگاہی‘ کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا سینئر صحافی طلعت اسلم کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار
وزیر اعظم کی جانب سے مرحوم طلعت اسلم کی آزادی صحافت, اقلیتوں اور حقوق نسواں کی عوامی آگاہی کے لیے خدمات کو خراج تحسین۔
وزیر اعظم کا سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار@CMShehbaz pic.twitter.com/ZDa5H2Tm2L— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 25, 2022
صحافی سبوخ سید نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’طلعت اسلم صاحب نے 67 برس کی عمر گزاری، سیکھنے سکھانے میں ان کا کوئی مماثل نہیں تھا۔‘
یہ تصویر آج سے صرف نو روز پہلے کی ہے ۔ طلعت اسلم صاحب نے67 برس عمرگزاری ، سیکھنے سکھانے میں ان کا کوئی مماثل نہیں تھا ۔ ایک بار ان کی رہائش پر ملاقات ہوئی جس کا اہتمام دی نیوز کے کارسپانڈنٹ برادرم ضیاء الرحمان صاحب نے کیا تھا ۔ آج صبح خبر ملی کہ طلعت اسلم صاحب ہم میں نہیں رہے ۔ pic.twitter.com/DnUFRnttGi
— Sabookh Syed | سبوخ سید (@SaboohSyed) May 25, 2022