Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو بھی واپس بھیجا جا رہا ہے؟

خیبرپختونخوا سے اب تک تین لاکھ 1 ہزار 161 غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندے واپس بھیجے جا چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کے بعد افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے لیے بھی تمام صوبوں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا میں مقیم افغان خاندان فکرمند ہو گئے ہیں۔
ماریہ حمید کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ہے مگر وہ اپنے خاندان کے ہمراہ طویل عرصے سے خیبرپختونخوا میں مقیم ہیں ان کے شوہر پشاور میں کاروبار کرتے ہیں جبکہ ان کے چار بچے پشاور کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔
ماریہ نے جب سے افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے انخلا کے بارے میں سنا ہے تب سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان واپس بھجوانے کی خبر سن کر میری نیندیں اڑ گئی ہیں۔ میں پاکستان میں پیدا ہوئی، میرے بچوں کی پیدائش بھی اسی ملک میں ہوئی اور اب وہ یہاں تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔‘
ماریہ حمید نے بتایا کہ اگر افغانستان واپس بھیجا گیا تو بچوں کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی، خصوصاً دو بیٹیوں پر تعلیم کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے جبکہ واپسی کی صورت میں شوہر کو کاروبار بھی ختم کرنا پڑے گا۔
کابل کے رہائشی فیض اللہ بھی افغان سٹیزن کارڈ ہولڈر ہیں اور وہ بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں نہ گھر ہے نہ روزگار، وہاں جا کر کیا کریں گے؟‘

محکمہ داخلہ کے ترجمان لطیف الرحمان کا کہنا ہے کہ صوبے میں تین لاکھ 23 ہزار 750 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز موجود ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

فیض اللہ کے مطابق ’غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو نکالنے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر ہمارے پاس تو اے سی سی کارڈز موجود ہیں اور ہمارا مکمل ڈیٹا موجود ہے، پھر بھی نکالا جا رہا ہے۔‘ 
کیا واقعی افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو پاکستان سے نکالا جارہا ہے؟ 
ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے خلاف 15 اپریل سے آپریشن شروع ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب افغان مہاجرین کو دی جانے والی ڈیڈ لائن 29 فروری کو ختم ہو چکی ہے اور حکومت کی جانب سے تاحال افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا محکمہ داخلہ اور قبائلی امور کے ترجمان لطیف الرحمان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ صوبے میں تین لاکھ 23 ہزار 750 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز ہیں۔ کس ضلع میں کتنے اے سی سی ہولڈر مقیم ہیں اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ٹاسک دیا گیا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ’اے سی سی کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی میپنگ کی جا رہی ہے اور یہ رپورٹ 15 اپریل تک مکمل کی جائے گی، تاہم آپریشن کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔‘ 

محکمہ داخلہ کے مطابق ’اے سی سی کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی میپنگ کی جا رہی ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز کاشف آفتاب عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جو ہدایت ملے گی اس کے مطابق حکمت عملی ترتیب دی جائے گی تاہم ابھی تک انخلا آپریشن سے متعلق کوئی واضح ہدایات نہیں ملیں۔
پشاور کے سینیئر صحافی محمد فہیم کے مطابق افغان باشندوں کے پروف آف رجسٹریشن اور افغان سٹیزن کارڈ کو ہر سال توسیع نہ دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر پھر دباؤ میں آ کر توسیع کر دی جاتی ہے۔
’حکومت نے انخلا کے پہلے مرحلے میں آپریشن نہیں کیا، ابھی تک جو لوگ واپس گئے ہیں وہ تمام رضاکارانہ طور پر گئے ہیں۔ اب بھی غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندے موجود ہیں۔ حکومت ہوم ورک کے بغیر فیصلے کرتی ہے اس لیے ثمرات درست طور پر سامنے نہیں آتے۔‘
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا سے اب تک تین لاکھ 1 ہزار 161 غیر قانونی باشندے واپس جا چکے ہیں جن میں چھ ہزار 745 افراد ڈی پورٹ کیے گئے۔

شیئر: