شام میں موجود جیل کی دیواروں پر قیدیوں کی جانب سے کندہ کیے گئے مختلف نقوش مٹانے کے لیے رضاکاروں کی جانب سے رنگ و روغن کرنے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
فرانس کی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شام میں گمشدہ افراد کے اہل خانہ نے نئی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ نقوش بشار الاسد کے دور میں ہونے والے جرائم کے شواہد ہیں ان کی حفاظت کی جائے۔
مزید پڑھیں
-
شام کی جیلوں میں 38 برس گزارنے والا اردنی شہری وطن واپس پہنچ گیا
Node ID: 882804
-
-
گذشتہ ماہ شام سے بشار الاسد کی حکومت ختم کرنے کے بعد ہزاروں افراد کو جیلوں سے رہا کیا گیا لیکن کئی شامی باشندے اب بھی اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی تلاش میں ہیں جو عرصہ سے لاپتہ ہیں۔
بشار الاسد کے اقتدار چھوڑنے کے بعد پیدا ہونے والے افراتفری کے ماحول میں جب صحافی اور اہل خانہ حراستی مراکز یا جیلوں کی صورتحال دیکھنے پہنچے تو وہاں سرکاری دستاویزات غیر محفوظ تھیں جن میں سے کچھ ضائع بھی ہو گئی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے شام میں دیواروں پر قیدیوں کے کندہ نقوش جو کہ بشار دور کے مظالم کے شواہد ہیں، کو محفوظ رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان شواہد میں مختلف بیرکس کی دیواروں پر قیدیوں کی لکھی گئی تحریریں بھی شامل ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ نوجوان رضاکار ایک نامعلوم حراستی مرکز کی دیواروں پر سفید رنگ کر کے نیا شامی پرچم یا ٹوٹی زنجیروں کی تصاویر بنا رہے ہیں جو اشتعال کا سبب بن رہا ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب صیدنایا جیل کے قیدیوں اور گمشدہ افراد کی ایسوسی ایشن کے شریک بانی دیاب سریا نے کہا ہے ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نئی تحقیقات شروع ہونے سے قبل جیل کی دیواروں پر رنگ کرنا غیرمناسب ہے۔‘
دیاب سریا نے کہا کہ یہ تشدد یا جبری گمشدگی کے نشانات مٹانے اور ثبوت جمع کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔
بشار الاسد دور میں تین مختلف حراستی مراکز میں قید رہنے والی جومانا حسن شتیوی نے کہا ہے ’ جیل کی اندرونی دیواروں پر لکھی تحریریں بے حد قیمتی معلومات ہیں۔‘

جومانا حسن نے فیس بک کے ذریعے کہا ہے ’ قیدی دیواروں پر اپنا نام اور فون نمبر لکھتے ہیں تاکہ رشتہ داروں سے رابطہ کر سکیں یا اہل خانہ کو اپنے بارے میں آگاہ کر سکیں۔‘
شام کی نئی انتظامیہ کو ملنے والی ایک درخواست میں ان شواہد کی بہتر حفاظت اور بشار الاسد دور میں جبری گمشدہ افراد کی تحقیقات کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کچھ لوگوں نے یہاں تک کہا ہے’ جیل کی بیرکوں کو رنگ کر کے ایسے نقوش کو مٹا دیا ہے جو قیدیوں کے ساتھ انتہائی ناانصافی کی نمائندگی کرتے تھے۔‘
