Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پارلیمان سے منظور ’خاندانی زندگی اور شادی کا تحفظ بل 2023‘ چھ ماہ کہاں غائب رہا؟

وزارت قانون نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی رائے کے بعد صدر مملکت کو بل واپس کرنے کی رائے دی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظور کیے بل کی گمشدگی کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ ’دی پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈ لاک بل 2023‘ دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد 6 ماہ تک غائب رہا اور قانون نہ بن سکا۔ معاملہ جمعے کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میں پہنچا۔
چیئرمین سینیٹ نے بل کی موجودہ حیثیت جاننے کے لیے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا۔
چھ ماہ تک بل کے سٹیٹس کا معلوم نہ ہونے پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے معاملہ ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو بھیجا جس پر جمعے کو وزارت پارلیمانی امور، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت قانون نے جواب جمع کروایا ہے۔
سابق رکن قومی اسمبلی جویریہ ظفر آہیر نے جولائی 2023 میں 'دی پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈلاک بل 2023‘ قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔
سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کے مطابق مذکورہ بل قومی اسمبلی سے 30 جولائی اور سینیٹ سے 7 اگست 2023 کو منظور ہوا تھا۔
پارلیمان کی منظوری سے اگلے ہی روز بل صدر مملکت کی منظوری کے لئے وزیر اعظم آفس کے ذریعے بھجوایا گیا۔جس پر وزیر اعظم آفس نے وزارت قانون کو بل میں کسی بھی قسم کا قانونی سقم تلاش کرنے کی ہدایت کی۔ وزارت قانون نے اس موقع پر کسی بھی قسم کی سفارش کرنے سے معذرت کی۔
جس کے بعد وزیر اعظم آفس نے ایک بار پھر وزارت قانون اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رائے مانگی۔ وزارت قانون نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی رائے کے بعد صدر مملکت کو بل واپس کرنے کی رائے دی۔ ان مراحل میں 6 ماہ لگ گئے اور بل غائب رہا۔

’بل مخلتف وزارتوں میں گھومتا رہا‘

قائمہ کمیٹی کو وزارت پارلیمانی امور کے حکام نے بتایا کہ بل اس عرصہ کے دوران مختلف وزارتوں اور ڈویژن میں گھومتا رہا۔وزارت پارلیمانی امور کے حکام کے مطابق'خاندانی زندگی اور شادی کا تحفظ بل 2023 کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔
نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بل کی پارلیمنٹ سے منظوری سے لے کر صدر کو پیش ہونے تک کی ٹائم لائن پر بریف کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ صدر نے بل آئین کے آرٹیکل 75(1)(b) کے تحت نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کو واپس کر دیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے بل کی موجودہ حیثیت جاننے کے لیے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا۔ فائل فوٹو: اے پی پی

سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کمیٹی کو اگلے اجلاس میں معاملے کی مزید چھان بین کا مطالبہ 

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے چیئرمین کمیٹی سے بل کے معاملے پر مزید چھان بین کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے نے ریمارکس دیے کہ 'دی پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈ لاک بل 2023‘ کی منظوری کے معاملے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ لگ یہ رہا ہے کہ بل غائب نہیں تھا بلکہ مختلف ڈویژنوں میں ابھی تک زیر غور تھا۔

’خاندانی زندگی اور شادی کا تحفظ بل 2023‘ ہے کیا؟

گزشتہ برس پارلیمان سے منظور ہونے والے بل کا مقصد سرکاری ملازمین کی خاندانی زندگیوں کی حفاظت کرنا ہے۔
وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والے میاں بیوی سرکاری ملازمین کے ٹرانسفر، پوسٹنگ سے متعلق معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی خاندانی زندگی کا تحفظ کرنا ہے اور آئین کے آرٹیکل آئین 25، 34 اور 35 کے مطابق خاندان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
بل کے متن کے مطابق پاکستان کا آئین قومی زندگی میں خواتین کی مکمل شرکت اور خاندان کے تحفظ پر زور دیتا ہے اور یہ مقصد میاں بیوی کو کام کرنے کا سازگار ماحول فراہم کرنے تک حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

صدر مملکت نے دوبارہ غور کے لیے ’خاندانی زندگی اور شادی کا تحفظ بل، 2023‘ مجلس شوری کو بھجوایا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

’آئین میں لکھا ہے کہ دس دن میں پارلیمان سے پاس بل کی صدر نے منظوری دینی ہے‘

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دس دن کے اندر صدر مملکت نے پارلیمان سے منظور بل کی منظوری دینی ہوتی ہے۔
اس بل کے معاملے میں آئین پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ حکام وزارت پارلیمانی امور نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم کو پابند کیا جائے کہ بل ایوان سے منظوری کے فوری بعد صدر مملکت کو بھجوا دیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو دیے گئے اپنے موقف میں بل کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 سے متصادم قرار دیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ کیا افسر شاہی کی لاپرواہی بچانے کے لئے ہم آئین میں تبدیلی کر دیں۔
صدر مملکت نے دوبارہ غور کے لیے ’خاندانی زندگی اور شادی کا تحفظ بل، 2023‘ مجلس شوری کو بھجوایا ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے بل مزید ضروری عمل کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھجوا دیا ہے۔

شیئر: